جگر داری
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - دلیری، بہادری، جرات۔ کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ شکیب خاطر عاشق بھلا کیا ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٥٧ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'جگر' کے ساتھ مصدر 'داشتن' سے مشتق صیغۂ امر 'دار' لگنے سے مرکب 'جگر دار' بنا اور پھر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'جگر داری' مرکب بنا اردو میں بطور اسم کیفیت مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء میں "دیوان دل عظیم آبادی" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مؤنث